بنگلورو،24؍ جولائی(ایس او نیوز) ریاست میں لنگایت طبقے کو ہندومذہب سے غیر مربوط کرنے اور اس طبقے کو ایک الگ مذہب کے طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عنقریب ریاست بھر کے لنگایت مٹھوں سے وابستہ سوامیوں کا ایک وفد وزیر اعلیٰ سدرامیا سے ملاقات کرے گا۔ بتایاجاتاہے کہ گدگ ، مندرگی ، دمبال اور دیگر شمالی کرناٹک کے علاقوں کے بڑے بڑے مٹھوں کی نمائندگی کرنے والے 25 سے زائد سوامیوں کا ایک وفد عنقریب سدرامیا سے ملاقات کرے گا اور ان سے مطالبہ کرے گا کہ ریاست میں لنگایت فرقہ کو ایک الگ مذہب کے طور پر تسلیم کیاجائے اور اس طبقے کو ہندو مذہب سے لاتعلق مانا جائے۔ حال ہی میں بیدر میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ان مٹھوں کے سربراہوں کو تیقن دیاتھاکہ تمام مٹھوں کے سربراہ اگر مل کر آئیں اور نمائندگی کریں تو لنگایت طبقے کو ایک علیحدہ مذہب کے طور پر تسلیم کرنے کے سلسلے میں وہ مرکزی حکومت سے سفارش کرنے تیار ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی اس یقین دہانی کے ساتھ ہی مختلف مٹھوں کے سربراہ ا ن سے ملاقات کیلئے تیار ہوچکے ہیں۔ ساتھ ہی لنگایت طبقے کو علیحدہ مذہب کے طور پر تسلیم کرنے وزیر اعلیٰ سدرامیا کی رضامندی سیاسی موضوع بحث بھی بن چکی ہے، وزیر اعلیٰ کے اس موقف کی ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے مخالفت کی اور کہا ہے کہ لنگایت طبقہ ہندو مذہب کا حصہ ہے یہ کوئی الگ مذہب نہیں۔ تاہم لنگایت طبقہ سے ہی وابستہ جنتادل (ایس) کے بسوراج ہوراٹی اور وزیر اعلیٰ تعلیمات بسوراج رایا ریڈی نے کہاکہ لنگایت طبقے کو علیحدہ مذہب کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ خاص طور پر شمالی کرناٹک کے لنگایتوں کی اکثریت اسے الگ مذہب کے طور پر تسلیم کئے جانے کے مطالبہ پر کافی شدت سے زور دے رہی ہے۔